باب حكم المرتد والمرتدة واستتابتهم

: : هذه القراءةُ حاسوبية، وما زالت قيدُ الضبطِ والتطوير،   

بَابُ حُكْمِ المُرْتَدِّ وَالمُرْتَدَّةِ وَاسْتِتَابَتِهِمْ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ وَالزُّهْرِيُّ ، وَإِبْرَاهِيمُ : تُقْتَلُ المُرْتَدَّةُ وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى : كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ وَشَهِدُوا أَنَّ الرَّسُولَ حَقٌّ وَجَاءَهُمُ البَيِّنَاتُ وَاللَّهُ لاَ يَهْدِي القَوْمَ الظَّالِمِينَ أُولَئِكَ جَزَاؤُهُمْ أَنَّ عَلَيْهِمْ لَعْنَةَ اللَّهِ وَالمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ خَالِدِينَ فِيهَا لاَ يُخَفَّفُ عَنْهُمُ العَذَابُ وَلاَ هُمْ يُنْظَرُونَ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ وَأُولَئِكَ هُمُ الضَّالُّونَ وَقَالَ : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تُطِيعُوا فَرِيقًا مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الكِتَابَ يَرُدُّوكُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ كَافِرِينَ وَقَالَ : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلاَ لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلًا وَقَالَ : مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى المُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الكَافِرِينَ وَقَالَ : وَلَكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِنَ اللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ذَلِكَ بِأَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الحَيَاةَ الدُّنْيَا عَلَى الآخِرَةِ وَأَنَّ اللَّهَ لاَ يَهْدِي القَوْمَ الكَافِرِينَ أُولَئِكَ الَّذِينَ طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَسَمْعِهِمْ وَأَبْصَارِهِمْ وَأُولَئِكَ هُمُ الغَافِلُونَ لاَ جَرَمَ - يَقُولُ : حَقًّا - أَنَّهُمْ فِي الآخِرَةِ هُمُ الخَاسِرُونَ - إِلَى - لَغَفُورٌ رَحِيمٌ وَلاَ يَزَالُونَ يُقَاتِلُونَكُمْ حَتَّى يَرُدُّوكُمْ عَنْ دِينِكُمْ إِنِ اسْتَطَاعُوا وَمَنْ يَرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَأُولَئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ

: هذه القراءةُ حاسوبية، وما زالت قيدُ الضبطِ والتطوير،  

: : هذه القراءةُ حاسوبية، وما زالت قيدُ الضبطِ والتطوير،   

6557 حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ مُحَمَّدُ بْنُ الفَضْلِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، بِزَنَادِقَةٍ فَأَحْرَقَهُمْ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحْرِقْهُمْ ، لِنَهْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لاَ تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ وَلَقَتَلْتُهُمْ ، لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ

: هذه القراءةُ حاسوبية، وما زالت قيدُ الضبطِ والتطوير،  

Some Zanadiqa (atheists) were brought to `Ali and he burnt them. The news of this event, reached Ibn `Abbas who said, If I had been in his place, I would not have burnt them, as Allah's Messenger (ﷺ) forbade it, saying, 'Do not punish anybody with Allah's punishment (fire).' I would have killed them according to the statement of Allah's Messenger (ﷺ), 'Whoever changed his Islamic religion, then kill him.'

":"ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل سدوسی نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے ، انہوں نے ایوب سختیانی سے ، انہوں نے عکرمہ سے ، انہوں نے کہاعلی رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ بےدین لوگ لائے گئے ۔ آپ نے ان کو جلوا دیا ۔ یہ خبر ابن عباس رضی اللہ عنہما کو پہنچی تو انہوں نے کہا اگر میں حاکم ہوتا تو ان کو کبھی نہ جلواتا ( دوسری طرح سے سزا دیتا ) کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ میں جلانے سے منع فرمایا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آگ اللہ کا عذاب ہے تم اللہ کے عذاب سے کسی کو مت عذاب دو میں ان کو قتل کروا ڈالتا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص اپنا دین بدل ڈالے اسلام سے پھر جائے اس کو قتل کر ڈالو ۔

':'Telah menceritakan kepada kami Abu Nu'man Muhammad bin Fadhl telah menceritakan kepada kami Hammad bin Zaid dari Ayyub dari Ikrimah mengatakan beberapa orang Zindiq diringkus dan dihadapkan kepada Ali radliallahu 'anhu lalu Ali membakar mereka. Kasus ini terdengar oleh Ibnu Abbas sehingga ia berujar; 'Kalau aku aku tak akan membakar mereka karena ada larangan Rasulullah Shallallahu'alaihiwasallam yang bersabda: 'Janganlah kalian menyiksa dengan siksaan Allah ' dan aku tetap akan membunuh mereka sesuai sabda Rasulullah Shallallahu'alaihiwasallam: 'Siapa yang mengganti agamanya bunuhlah!''

: : هذه القراءةُ حاسوبية، وما زالت قيدُ الضبطِ والتطوير،   

6558 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَعِي رَجُلاَنِ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ ، أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِي وَالآخَرُ عَنْ يَسَارِي ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاكُ ، فَكِلاَهُمَا سَأَلَ ، فَقَالَ : يَا أَبَا مُوسَى ، أَوْ : يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ قَالَ : قُلْتُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالحَقِّ مَا أَطْلَعَانِي عَلَى مَا فِي أَنْفُسِهِمَا ، وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُمَا يَطْلُبَانِ العَمَلَ ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى سِوَاكِهِ تَحْتَ شَفَتِهِ قَلَصَتْ ، فَقَالَ : لَنْ ، أَوْ : لاَ نَسْتَعْمِلُ عَلَى عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهُ ، وَلَكِنِ اذْهَبْ أَنْتَ يَا أَبَا مُوسَى ، أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ ، إِلَى اليَمَنِ ثُمَّ اتَّبَعَهُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ أَلْقَى لَهُ وِسَادَةً ، قَالَ : انْزِلْ ، وَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَهُ مُوثَقٌ ، قَالَ : مَا هَذَا ؟ قَالَ : كَانَ يَهُودِيًّا فَأَسْلَمَ ثُمَّ تَهَوَّدَ ، قَالَ : اجْلِسْ ، قَالَ : لاَ أَجْلِسُ حَتَّى يُقْتَلَ ، قَضَاءُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، ثَلاَثَ مَرَّاتٍ . فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ ، ثُمَّ تَذَاكَرَا قِيَامَ اللَّيْلِ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : أَمَّا أَنَا فَأَقُومُ وَأَنَامُ ، وَأَرْجُو فِي نَوْمَتِي مَا أَرْجُو فِي قَوْمَتِي

: هذه القراءةُ حاسوبية، وما زالت قيدُ الضبطِ والتطوير،  

Abu Musa said, I came to the Prophet (ﷺ) along with two men (from the tribe) of Ash`ariyin, one on my right and the other on my left, while Allah's Messenger (ﷺ) was brushing his teeth (with a Siwak), and both men asked him for some employment. The Prophet (ﷺ) said, 'O Abu Musa (O `Abdullah bin Qais!).' I said, 'By Him Who sent you with the Truth, these two men did not tell me what was in their hearts and I did not feel (realize) that they were seeking employment.' As if I were looking now at his Siwak being drawn to a corner under his lips, and he said, 'We never (or, we do not) appoint for our affairs anyone who seeks to be employed. But O Abu Musa! (or `Abdullah bin Qais!) Go to Yemen.' The Prophet then sent Mu`adh bin Jabal after him and when Mu`adh reached him, he spread out a cushion for him and requested him to get down (and sit on the cushion). Behold: There was a fettered man beside Abu Muisa. Mu`adh asked, Who is this (man)? Abu Muisa said, He was a Jew and became a Muslim and then reverted back to Judaism. Then Abu Muisa requested Mu`adh to sit down but Mu`adh said, I will not sit down till he has been killed. This is the judgment of Allah and His Apostle (for such cases) and repeated it thrice. Then Abu Musa ordered that the man be killed, and he was killed. Abu Musa added, Then we discussed the night prayers and one of us said, 'I pray and sleep, and I hope that Allah will reward me for my sleep as well as for my prayers.'

":"ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے ، انہوں نے قرۃ بن خالدسے ، کہا مجھ سے حمید بن ہلال نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے ، انہوں نے ابوموسیٰ اشعری سے ، انہوں نے کہامیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا میرے ساتھ اشعر قبیلے کے دو شخص تھے ( نام نامعلوم ) ایک میرے داہنے طرف تھا ، دوسرا بائیں طرف ۔ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر رہے تھے ۔ دونوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عہدہ کی درخواست کی ۔ آپ نے فرمایا ابوموسیٰ یا عبداللہ بن قیس ! ( راوی کو شک ہے ) میں نے اسی وقت عرض کیا یا رسول اللہ ! اس پروردگار کی قسم جس نے آپ کو سچا پیغمبر بنا کر بھیجا ۔ انہوں نے اپنے دل کی بات مجھ سے نہیں کہی تھی اور مجھ کو معلوم نہیں تھا کہ یہ دونوں شخص عہدہ چاہتے ہیں ۔ ابوموسیٰ کہتے ہیں جیسے میں اس وقت آپ کی مسواک کو دیکھ رہا ہوں وہ آپ کے ہونٹ کے نیچے اٹھی ہوئی تھی ۔ آپ نے فرمایا جو کوئی ہم سے عہدہ کی درخواست کرتا ہے ہم اس کو عہدہ نہیں دیتے ۔ لیکن ابوموسیٰ یا عبداللہ بن قیس ! تو یمن کی حکومت پر جا ( خیر ابوموسیٰ روانہ ہوئے ) اس کے بعد آپ نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو بھی ان کے پیچھے روانہ کیا ۔ جب معاذ رضی اللہ عنہ یمن میں ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان کے بیٹھنے کے لیے گدا بچھوایا اور کہنے لگے سواری سے اترو گدے پر بیٹھو ۔ اس وقت ان کے پاس ایک شخص تھا ( نام نامعلوم ) جس کی مشکیں کسی ہوئی تھیں ۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا یہ کون شخص ہے ؟ انہوں نے کہا یہ یہودی تھا پھر مسلمان ہوا اب پھر یہودی ہو گیا ہے اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا اجی تم سواری پر سے اتر کر بیٹھو ۔ انہوں نے کہا میں نہیں بیٹھتا جب تک اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے موافق یہ قتل نہ کیا جائے گا تین بار یہی کہا ۔ آخر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا وہ قتل کیا گیا ۔ پھر معاذ رضی اللہ عنہ بیٹھے ۔ اب دونوں نے رات کی عبادت ( تہجد گزاری ) کا ذکر چھیڑا ۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا میں تو رات کو عبادت بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور مجھے امید ہے کہ سونے میں بھی مجھ کو وہی ثواب ملے گا جو نماز پڑھنے اور عبادت کرنے میں ۔

':'Telah menceritakan kepada kami Musaddad telah menceritakan kepada kami Yahya dari Qurrah bin Khalid telah menceritakan kepadaku Humaid bin Hilal telah menceritakan kepada kami Abu Burdah dari Abu Musa mengatakan Aku berangkat menemui Nabi shallallahu 'alaihi wasallam bersama dua orang asy'ari satunya di sebelah kananku dan satunya di sebelah kiriku sedang Rasulullah Shallallahu'alaihiwasallam tengah bersiwak. Keduanya sama-sama meminta pekerjaan (jabatan). Kemudian Nabi berujar: 'Wahai Abu Musa atau hai Abdullah bin Qais' Abu Musa berkata; maka Saya menjawab; 'demi Dzat yang mengutusmu dengan kebenaran kedua tamu itu tidak mengungkapkan isi hati mereka dan aku tidak merasa bahwa keduanya minta pekerjaan (jabatan).' dan seolah-olah aku melihat siwak beliau dibawah bibirnya mengempes. Kemudian Nabi bersabda: 'Sekali-kali aku tidak akan mempekerjakan tugas-tugas kita kepada orang yang memintanya (menginginkannya) akan tetapi kamu ya Abu Musa atau ya Abdullah bin Qais pergilah ke Yaman.' kemudian Mu'adz bin jabal menyusulnya. Ketika Mu'adz bin jabal menemuinya Abu Musa menghamparkan bantal dan berujar; 'Turunlah'. Ternyata disisinya ada seorang laki-laki yang terikat. Muadz bertanya; 'kenapa dengan orang ini? ' Abu Musa menjawab; 'dahulu dia seorang yahudi lantas masuk Islam dan kembali lagi memeluk agama yahudinya.' Maka Abu Musa berujar; 'Duduklah engkau! ' Mu'adz menjawab; 'Saya tidak akan duduk hingga dia dibunuh untuk menunaikan ketetapan Allah dan rasul-NYA' (ia mengulang tiga kali) maka Abu Musa memerintahkan untuk membunuh yahudi tersebut. Keduanya kemudian berbincang-bincang masalah shalat malam. Satunya mengatakan; 'Adapun aku shalat malam namun juga tidur dan kuharap dari tidurku (mendapat pahala) sebagaimana aku berharap memperoleh pahala bersama di kaumku.''