هذه الخدمةُ تعملُ بصورةٍ آليةٍ، وهي قيدُ الضبطِ والتطوير، 
6763 حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا مِنَ الأَنْصَارِ ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يُطِيعُوهُ ، فَغَضِبَ عَلَيْهِمْ ، وَقَالَ : أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُطِيعُونِي ؟ قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : قَدْ عَزَمْتُ عَلَيْكُمْ لَمَا جَمَعْتُمْ حَطَبًا ، وَأَوْقَدْتُمْ نَارًا ، ثُمَّ دَخَلْتُمْ فِيهَا فَجَمَعُوا حَطَبًا ، فَأَوْقَدُوا نَارًا ، فَلَمَّا هَمُّوا بِالدُّخُولِ ، فَقَامَ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ ، قَالَ بَعْضُهُمْ : إِنَّمَا تَبِعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرَارًا مِنَ النَّارِ أَفَنَدْخُلُهَا ؟ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ ، إِذْ خَمَدَتِ النَّارُ ، وَسَكَنَ غَضَبُهُ ، فَذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَوْ دَخَلُوهَا مَا خَرَجُوا مِنْهَا أَبَدًا ، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي المَعْرُوفِ
هذه الخدمةُ تعملُ بصورةٍ آليةٍ، وهي قيدُ الضبطِ والتطوير، 
6763 حدثنا عمر بن حفص بن غياث ، حدثنا أبي ، حدثنا الأعمش ، حدثنا سعد بن عبيدة ، عن أبي عبد الرحمن ، عن علي رضي الله عنه ، قال : بعث النبي صلى الله عليه وسلم سرية ، وأمر عليهم رجلا من الأنصار ، وأمرهم أن يطيعوه ، فغضب عليهم ، وقال : أليس قد أمر النبي صلى الله عليه وسلم أن تطيعوني ؟ قالوا : بلى ، قال : قد عزمت عليكم لما جمعتم حطبا ، وأوقدتم نارا ، ثم دخلتم فيها فجمعوا حطبا ، فأوقدوا نارا ، فلما هموا بالدخول ، فقام ينظر بعضهم إلى بعض ، قال بعضهم : إنما تبعنا النبي صلى الله عليه وسلم فرارا من النار أفندخلها ؟ فبينما هم كذلك ، إذ خمدت النار ، وسكن غضبه ، فذكر للنبي صلى الله عليه وسلم ، فقال : لو دخلوها ما خرجوا منها أبدا ، إنما الطاعة في المعروف
هذه الخدمةُ تعملُ بصورةٍ آليةٍ، وهي قيدُ الضبطِ والتطوير، 

: هذه القراءةُ حاسوبية، وما زالت قيدُ الضبطِ والتطوير، 

Narrated `Ali:

The Prophet (ﷺ) sent an army unit (for some campaign) and appointed a man from the Ansar as its commander and ordered them (the soldiers) to obey him. (During the campaign) he became angry with them and said, Didn't the Prophet (ﷺ) order you to obey me? They said, Yes. He said, I order you to collect wood and make a fire and then throw yourselves into it. So they collected wood and made a fire, but when they were about to throw themselves into, it they started looking at each other, and some of them said, We followed the Prophet (ﷺ) to escape from the fire. How should we enter it now? So while they were in that state, the fire extinguished and their commander's anger abated. The event was mentioned to the Prophet (ﷺ) and he said, If they had entered it (the fire) they would never have come out of it, for obedience is required only in what is good. (See Hadith No. 629. Vol. 5)

":"ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے سعد بن عبیدہ نے بیان کیا ، ان سے ابوعبدالرحمن نے بیان کیا اور ان سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دستہ بھیجا اور اس پر انصار کے ایک شخص کو امیر بنایا اور لوگوں کو حکم دیا کہ ان کی اطاعت کریں ۔ پھر امیر فوج کے لوگوں پر غصہ ہوئے اور کہا کہ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں میری اطاعت کا حکم نہیں دیا ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ ضرور دیا ہے ۔ اس پر انہوں نے کہا کہ میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ لکڑی جمع کرو اور اس سے آگ جلاؤ اور اس میں کود پڑو ۔ لوگوں نے لکڑی جمع کی اور آگ جلائی ، جب کودنا چاہا تو ایک دوسرے کو لوگ دیکھنے لگے اور ان میں سے بعض نے کہا کہ ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری آگ سے بچنے کے لیے کی تھی ، کیا پھر ہم اس میں خود ہی داخل ہو جائیں ۔ اسی دوران میں آگ ٹھنڈی ہو گئی اور امیر کا غصہ بھی جاتا رہا ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ اس میں کود پڑتے تو پھر اس میں سے نہ نکل سکتے ۔ اطاعت صرف اچھی باتوں میں ہے ۔